شوبی نامہ

شعیب سعید شوبی کی کچھ یادیں کچھ باتیں

  • سرورق
  • Help for Writing Urdu
  • Urdu Fonts
  • میرے بارے میں

28

Jul

اندازے

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

فلم شیریں اور فرہاد کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ سین کچھ یوں تھا کہ ہیرو نے خطرناک پہاڑ پر چڑھنا تھا۔ بہت سے لوگ کھڑے یہ خطرناک سین دیکھ رہے تھے۔ ان میں ایک اَن پڑھ جاہل بوڑھا بھی تھا ، جب ہیرو پہاڑ پر چڑھنے لگا تو بوڑھا آدمی بولا:
“او بچے! کیوں اپنی جان کا دشمن بن گیا ہے؟ ۔۔۔۔۔نیچے آجا!۔۔۔۔۔دیکھ پہاڑ بہت خطرناک ہے۔۔۔۔ میں کہتا ہوں واپس آجا!”

تھوڑی دیر بعد ہیرو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا اور زور زور سے کہنے لگا۔ “شیریں شیریں۔۔۔۔۔”
بوڑھا آدمی بولا:
“میں آ کھیا سی ناں۔۔۔۔۔۔نا چڑھ اپر ہونڈ منگدا رؤ سیڑھی”!

**********

5 تبصرے

31

May

پہلے روز

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

تھمائے بابو کو جب ہم نے دام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

ہمارا ہو گیا فی الفور، کام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

کیا نہ کوئی بھی سروس میں کام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

نیاز! کھایا ہے ہم نے حرام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

تمام عمر رہا وہ غلام ، بیگم کا

بنا سکا نہ جو اس کو غلام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

وہ کاما ڈال رہی ہے کہیں، نہ فُل اسٹاپ

نہیں جو کرتی تھی مجھ سے کلام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

بنا ہوا ہے مرا باس اس لیے دشمن

نہ کر سکا تھا میں اس کو سلام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

مجھے وہ چھوڑ کے جاتی نہ اپنے میکے کو

اگر سناتا نہ اس کو کلام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

ہمیشہ اس کا میاں ، بے لگام رہتا ہے

نہیں جو ڈالتی اس کو لگام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

یہ ساس ، خون کے آنسو تجھے رُلائے گی

جو کر رہی ہے ترا احترام ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے روز

(نیاز سواتی)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا

6

Mar

ہم جا رہے ہیں بھائی!

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

باندھی ہوئی ہے کس کے ٹانگے سے چارپائی

ہے ساتھ ساتھ اپنے

اجداد کی نشانی، اِک مضمحل رضائی

اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

ٹانگا

پہنے ہوئے ہیں تن پر پیراہنِ ہوائی

کالر نہیں ہے پھر بھی

گردن میں اِک پرانی، لہرا رہی ہے ٹائی

اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

مکتب میں مدتوں سے موقوف ہے پڑھائی

کیا گل کھلا رہی ہے

واعظ کی خوش بیانی، مسجد میں ہے لڑائی

اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

رختِ سفر ہے اپنا، اپنی برہنہ پائی

آنکھوں میں صرف سپنے

ہاتھوں میں ناتوانی اور کاسئہ گدائی

اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

(انور مسعود)

2 تبصرے

17

Apr

ایک مسافر شاعر

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

کراچی شہر میں بس کا سفر یقینا ایک الگ ہی تجربہ ہوتا ہے۔جس میں انسان کے کئی رُوپ سامنے آتے ہیں ۔بس کے سفر میں بعض اوقات ایسے انوکھے اور دلچسپ واقعات پیش آتے ہیں جو مسافروں کے لئے خوشگوار یاد اور ناقابل فراموش بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ڈان اخبار میں شائع ہوا جیسے ’’اے۔ قاضی شکور‘‘ نے انگریزی میں تحریر کیاہے۔ اس واقعے کا خلاصہ ترجمہ کی صورت میں یہاں پیش کرہا ہوں۔

ِ

کراچی کی منی بس

 

بس میں سفر کے دوران کسی اسٹاپ سے ایک شخص سوار ہوا۔ بس چونکہ بھری ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بڑی مشکل سے آگے بڑھتا ہوا بالآخر جالی یا (گِرل) تک پہنچ گیا، جو لیڈیز پورشن کے پارٹیشن کے لئے لگی ہوتی ہے۔ وہ شخص کچھ دیر اپنی چڑھی ہوئی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔پہلی نظر میں وہ کوئی بھکاری ہی محسوس ہوا۔ مگر جب اس نے نہایت خوش الحانی سے اپنی ’’مدّعا ‘‘ سنائی تو مسافروں پر اس کا کیا ’’اثر ‘‘ ہوا؟۔ ۔ ۔ یہ آپ کو بعد میں پتا چلے گا!۔ ۔ ۔ پہلے آپ اس اجنبی شخص کی ’’منظوم مدّعا ‘‘ ملاحظہ فرمائیں!۔ ۔ ۔

ِ

اچھا تو بھائی جان، قدردان، مہربان!
اب دل پر ہاتھ رکھ کے سنیں میری داستان!

 

کرتے ہیں آپ بس میں سفر روز، صبح و شام
بس یونہی چل رہا ہے اس شہر کا نظام

 

ملتے ہیں بس میں آپ کو ہاکر نئے نئے
سنتے ہیں آپ روز ہی لیکچر نئے نئے

 

کپڑوں پر کوئی آپ کے خوشبو لگائے گا
بسکٹ دکھائے گا، کوئی ٹافی کھلائے گا

 

یا کچھ ملیں گے آپ کو محتاج اور فقیر
جو خود بھی تھے کبھی بڑے خوش حال اور امیر

 

ایک حادثہ ہوا تو وہ معذور ہوگئے
خیرات مانگنے پہ وہ مجبور ہوگئے

 

لیکن نہیں ہوں میں کوئی محتاج یا فقیر
ہوں خود کفیل خیر سے، ایک مردِ باضمیر

 

جیبوں سے پیسے کھینچنے آیا نہیں ہوں میں
کچھ مانگنے یا بیچنے آیا نہیں ہوں میں

 

دراَصل بات یہ ہے کہ شاعر ہے خاکسار
لیکن ہوں بدنصیب، نہیں کوئی میرا یار

 

ٹی وی سے، ریڈیو سے، محافل سے دُور دُور
راہی کی طرح جوکہ ہو منزل سے دُور دُور

 

دیوار ودَر کو گھر میں سناتا ہوں میں کلام
بس آپ سے ہے عرض میری کیجئے یہ کام

 

سو کے قریب آدمی موجود ہیں یہاں
بس میں مشاعرے کا بندھے اگر سماں

 

سن لیجئے غزل میری، احسان کیجئے!
اور بھیک میں غریب کو کچھ داد دیجئے!


’’ مسافر شاعر‘‘ کی مدّعا سن کرسوائے ان مسافروں کے جو بیچارے بس کی چھت میں سوار تھے ، بس کے تمام مسافراس کے ’’فن‘‘ کے قائل ہوگئے اورانھوں نے ’’مسافر شاعر‘‘ کو بھرپور داد دیتے ہوئے اس کی ’’تازہ غزل ‘‘ سننے پر آمادگی ظاہر کردی۔ ۔ ۔ !

ِ

٭۔ ۔ ۔ ٭

12 تبصرے

23

Oct

شادی کی تقریب کا جدید کارڈ

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

ایک فورم پر دو سال قبل ایک ’’شادی کارڈ‘‘ پوسٹ کیا تھا۔ آج حسنِ اتّفاق سے وہاں جا نکلا۔ خوش قسمتی دیکھئے کہ کمپیوٹر پر اس شادی کارڈ کی کورل ڈرا پروجیکٹ فائل بھی مل گئی۔ چنانچہ دوبارہ ایک گف فائل ایکسپورٹ کی اور اب اسے بلاگ پر اپلوڈ کر رہا ہوں۔ کارڈ میں موجود متن ’’ہمدرد نونہال‘‘ اور کچھ میرے ذہن کی اختراع ہے اور کارڈ بھی بہ ماؤس خود ڈیزائن کیا ہے۔ کارڈ کو دیکھنے کے لئے نیچے والے ’’انگوٹھے کے ناخن‘‘ یا تھمب نیل (Thumbnail) پر کلک کریں اور واپس آنے کے لئے اپنے براؤزر کا Back بٹن دبائیں!

 

شادی کی تقریب کا جدید کارڈ
٭۔ ۔ ۔ ٭

3 تبصرے

18

Sep

ایک کرکٹر کی آپ بیتی

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

میں ایک عظیم کرکٹر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ اور آج اپنے شاندار ماضی کے ایام یاد کر کے اور ٹھنڈی آہیں بھر کے وقت گزارتا ہوں۔


اس مضمون کا شعیب اختر سے کوئی تعلق نہیں

مجھے بچپن ہی سے کر کٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ ۔ ۔ خوابوں میں ، میں خود کو جاوید میانداد ، عمران خان اور وسیم اکرم تصور کرتا تھا۔ ۔ ۔ ہم لوگ ویسے تو متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے مگر ہمارے والد صاحب کے کئی زمینداروں،وڈیروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ چنانچہ کہاں میں گلیوں میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتا تھا مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں انڈر 16 ٹیم میں شامل ہوگیاکرکٹ سے والہانہ لگاؤ اور والد صاحب کے تعلقات کی بدولت میں انڈر 19 میں جا پہنچا۔یہ دور بڑا ہی سخت دور تھا اورمجھے نہایت سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔دن کا زیادہ تر وقت پریکٹس میںگزارنا پڑتا تھا۔

ایک دفعہ ہمارا انگلینڈ کا دورہ ہوا۔اس دورے میں ، میں نے نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سلیکٹرز میری پر فارمنس سے نہایت متاثر ہوئے اور انھوں نے مجھے قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع دے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ والد صاحب کی کوششیں بھی اس میں شامل تھیں۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ٹیسٹ میچ میں ، میں نے ایک نصف سینچری اسکور کر ڈالی۔تین وکٹیں بھی خوش قسمتی سے حاصل کیں ۔ This was really the happiest day of my life۔

اس طرح میں قومی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کراتا رہا۔ میری پرفارمنس خراب بھی رہتی تو پھر بھی سلیکٹرز مجھے ڈراپ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ والد صاحب کی کافی ’’اُوپر‘‘ تک پہنچ تھی۔

میں نے تین ورلڈ کپ بھی کھیلے ، جس میں سے ایک میں ، میں نے کپتانی بھی کی۔ جس میں ہماری ٹیم کو بری طرح شکست ہوگئی۔ ۔ ۔ بس یہ میرے کیرےئر کا گویا اختتا م تھا کیونکہ اس کے بعد مجھ پر سٹے بازی (Match Fixing) کے الزامات لگنا شروع ہوگئے۔ میری کرکٹ جاری تو رہی مگر اب میں پہلے جیسا بہترین کھلاڑی نہ رہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ مجھ پر الزامات ثابت ہوگئے ۔ مجھے ناصرف ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا بلکہ ۵۰ لاکھ روپے کرکٹ بورڈ کو جرمانہ کے طور پر بھی ادا کرنے پڑے۔(اُن پیسوں سے میرا ایک فیکٹری کھولنے کا ارادہ تھا)۔ میں نے اپنے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ مل کر اور انھیں بھرپور اعتماد میں لے کر سٹے باز سے بات کی تھی، مگر وہ مشہور مقولہ ہے نا ۔ ۔ ۔ ’’گھر کا بھیدی ، لنکا ڈھائے‘‘ ۔ ۔ ۔ بس یہی کچھ ہوا اور میرے ساتھیوں نے (خدا اُنھیں غارت کرے)عدالت کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔

۔ ۔ ۔ چنانچہ میں بدنام ہو کر رہ گیا۔ آج بھی میں اس وقت کو کوستا ہوں، جب میں نے چند روپوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیا اور عزت ، دولت اور شہرت ہر چیز سے محروم ہوگیا۔ ۔ ۔ میرے دل سے تو بس یہی دعا نکلتی ہے۔


کسی کو خدا نہ برے دن دکھائے
برے وقت میں ہوتے ہیں اپنے، پرائے


٭۔ ۔ ۔ ٭

3 تبصرے

16

Sep

امتحانات

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح


امتحانات کے دوران پسینے کیوں چھوٹتے ہیں؟

امتحانات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بیک وقت کئی طالبعلموں کے درمیان اُس شخص کو تلاش کیا جائے جو معلومات اور علمیت کے لحاظ سے باقیوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ بعض لوگوں کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امتحانات کے ذریعے طالبعلموں کو Depression کا مریض بنایا جاتا ہے تاکہ مُلک کے ماہرین ِ نفسیات کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔

٭امتحانات کے نزدیک مساجد کی رونق دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ بعض نمازیوں کے مطابق اِس سے زیادہ رونق ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔

٭امتحانات کا ایک عمومی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو کتابیں سال بھر فالتو پڑی مٹّی کھاتی ہیں، اُن کی صفائی ہو جاتی ہے۔ طالب علم اُنھیں نا صرف صاف کرتے ہیں بلکہ اُن سے مستفید بھی ہوتے ہیں۔

٭امتحانات کے دنوں میں بُک شاپس میں بڑی رونق دیکھنے میں آتی ہے۔ گیس پیپرز کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پانچ سالہ پرچہ جات اور دیگر امدادی کُتب کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔

٭امتحانات کے نزدیک لوگوں کے گھروں کے بجلی کے بِلز زیادہ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ بچوں کا رات دیر تک ’’پڑھنا‘‘ بتائی جاتی ہے۔

٭ماہرین کے مطابق امتحانات کے نزدیک ہر طالب علم کو ایک عدد طوطا پال لینا چاہئے۔ پھر جس طرح وہ رَٹے ، طالب علم بھی رَٹنا شروع کر دے۔ اللہ نے چاہا تو وہ ضرور کامیاب ہو گا!

2 تبصرے

1

Sep

اسٹار پلس کے ڈرامے

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

خبردار

یہ مضمون پڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ:
٭ اس وقت کوئی ڈرامہ مثلاً ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ تو نہیں آرہا؟۔ ۔ ۔
٭ کہیں لائٹ تو نہیں چلی گئی؟۔ ۔ ۔
٭ آپ کو پڑھنا تو آتا ہے نا!۔ ۔ ۔
اگر ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ہو تو اس مضمون کو بند کر دیں۔ ۔ ۔ پہلے ڈرامے اور دوسرے کاموں سے فارغ ہو لیں پھر اس مضمون کا مطالعہ کریں!۔ ۔ ۔ شکریا!


اسٹار پلس کے ڈرامے

آج کے دور میں ٹی وی نہ صرف گھریلو تفریح کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی حیثیت گھر کے ایک فرد جیسی ہو چکی ہے۔جس کے بغیر گھر نامکمل سا لگتا ہے۔ایک طرف اگر دنیا جہاں کی معلومات گھر بیٹھے ملتی ہیں تو دوسری طرف اس کے تفریحی پروگرام کسی طرح بھی طلسم ہوشربا سے کم نہیں۔آج ملک کے شہری علاقوں کی متوسّط درجے کی ہر فیملی کے گھر میں شام سات بجے سے گیارہ بجے تک خواتین اور اکثر مرد حضرات بھی ٹی وی کے سامنے بغیر پلکیں جھپکائے بیٹھے رہتے ہیں، وہیں کھاتے ہیں، وہیں پیتے ہیں،غرض یہ کہ لیٹرین جانے کی ضرورت بھی پیش آئے تو وقفہ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔کبھی کبھی تو ٹیلی فون یا دروازے کی گھنٹی گھنٹوں بجتی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ایک خاتون تو ڈراموں کے دوران بچے ّکو سیریلیکس کھلاتے کھلاتے کئی بار چمچہ اس کی ناک اور کان میں ڈال چکی ہیں۔معصوم بچہ ّ بھی اب اِن حادثات کا اتنا عادی ہوگیا ہے کہ چمچے کا رُخ غلط سمت دیکھ کر خود ہی ہاتھ سے پکڑ کر سیدھا کر لیتا ہے۔

ان ڈراموں کا رنگ ہماری زندگی پر اتنا چھونے لگا ہے کہ ہر لڑکی اپنے آپ کو ’’کشش‘‘، ہر بہو اپنے آپ کو ’’پاروتی‘‘ اور ہر ساس اپنے آ پ کو ’’تُلسی‘‘ سمجھنے لگی ہے۔شادی کے لیے اب لڑکی والوں کو لڑکا ’’سوجل‘‘(اب تُشال) جیسا چاہئے ہوتا ہے اور لڑکے والوں کو لڑکی ’’کُم کُم‘‘جیسی۔آج بچے ّ کسی شادی میں جاتے ہیں تو پوچھتے ہیں ’’یہ کیسی شادی ہے؟ ۔ ۔ ۔ نہ ’’ڈانڈیاں‘‘کھیلی گئیں، نہ ’’پھیرے‘‘ لگے؟‘‘۔ ۔ ۔ کچھ بچے ّ تو ایک دوسرے کو’’دل‘‘ دیتے بھی پائے گئے۔اب کسی بچے ّ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہی کہ ویلن ٹائن ڈے کیا ہوتا ہے؟اُسے خود پتا ہوتا ہے۔

پہلے فیشن برسوں میں بدلتا تھا۔ اب اسٹار پلس کے ہر ڈرامے کے ساتھ روز بدلتا ہے۔ پہلے مرد ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنتے تھے،اب خواتین پہنتی ہیں۔بازاروں میں ’’کُم کُم ‘‘ کی چوڑیاں، ’’کشش‘‘ کی سینڈیلیں اور ’’تُلسی‘‘ کی ساڑھیاں تک ملنے لگی ہیں۔By the way میں نے تو ’’کُم کُم‘‘ چھالیہ بھی کھائی ہوئی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اسٹار پلس کے ڈرامے جہاں ’’رنگین ‘‘ اور ’’گلیمر‘‘ سے بھرپور ہوتے ہیں وہیں ہندوانہ مذہبی شعائر کے اعلیٰ تربیتی مراکز بھی ہیں۔ان میں نہ صرف ہندومت کے نظریات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ گھر بیٹھے لوگوں کو مفت ہندوانہ مذہبی رسومات کی تربیت دی جارہی ہے۔ ان کے شاندار نتائج سے روگردانی بھی نہیں کی جاسکتی ۔ ان ڈراموں کا ہی اثر ہے جو اب آہستہ آہستہ ہم لوگ اپنے اسلامی دنوں کو تو بھولتے جارہے ہیں مگر ہمیں ہند ؤوں کے خاص دن یاد رہتے ہیں۔

شاید ہم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا ۔ہم نے اگر اب بھی نہ سوچا، اب بھی نہ سمجھا اور اب بھی نہ جانا تو شاید میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہوا یہ ثقافتی زہر ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر جائے گا۔آج اگر ایک ناپختہ ذہن بچہ ہندوانہ مذہبی رسومات کومعمولاتِزندگی سمجھ کرسیکھ رہا ہے تو کل وہ کس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کراپنا ’’اسلامی تشخّص ‘‘ تلاش کرے گا؟

میرا خیال ہے کافی لمبا ’’جلسہ‘‘ ہوگیا۔ اب مجھے اجازت دیں۔میں نے ابھی ’’کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی ‘‘ بھی دیکھنا ہے

2 تبصرے

1

Sep

بچپن کے گیت

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

بچپن کی باتیں چل رہی ہیں تو آج میں آپ کو بچپن کے دو مشہور گیت یا نظمیں سناتا ہوں۔ ۔ ۔


پہلا گیت
لکڑی کی کاٹھی
کاٹھی کا گھوڑا
گھوڑے کے سرپہ جو مارا ہتھوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم دبا کر دوڑا
گھوڑا پہنچا چوک پہ
چوک پہ تھا نائی
نائی نے پھر گھوڑے کی حجا مت جو بنائی
ٹگ بگ ۔ ۔ ۔ ٹگ بگ!
ٹک ٹک ٹک!
ٹگ بگ ۔ ۔ ۔ ٹگ بگ!
ٹک ٹک ٹک!
(اگر کچھ بھول گیا ہوں تو پلیز آپ بتا دیں۔شکریا!)
٭۔ ۔ ۔ ٭

سناؤ گیت ورنہ کھا جاؤں گا

دوسرا گیت
دس پتے توڑیں گے
ایک پتہ کچا
ہرن کا بچہ
ہرن گئی پانی میں
پکڑو اس کی نانی کو
نانی گئی جیل میں
ہم گئے ریل میں
ریل میں کھائے بسکٹ
بسکٹ بڑے خراب
ہم نے پی شراب
شراب بڑی اچھی
ہم نے کھائی مچھی(مچھلی)
مچھی میں کانٹا
امّی نے مارا چانٹا
چانٹا بڑے زور کا
ہم نے کھائی پولکا
پولکا بڑی ٹھنڈی
ہم گئے منڈی
منڈی سے لائے آلو
پیچھے پڑ گئے بھالو
بھالو کو بھگائیں گے
بھائی کی دلہن لائیں گے
بھائی کی دلہن کالی
سو نخرے والی
ایک نخرہ ٹوٹ گیا
بھائی کا منہ سوج گیا
(اگر کچھ بھول گیا ہوں تو پلیز آپ بتا دیں۔شکریا!)
٭۔ ۔ ۔ ٭

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا

1

Sep

چھپن چھپائی

مصنف: شوبی  موضوع: طنزومزاح

آج میرا بچپن کے کھیلوں کے بارے میں لکھنے کا دل چاہ رہا ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ آج میں آپ کو بچپن کے ایک کھیل کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ۔ ۔

’’چھپن چھپائی‘‘کا کھیل تو آپ نے بھی اپنے بچپن میں ضرور کھیلا ہوگا۔جس میں ایک بچہ چور بنتا ہے،اس کی آنکھیں بند ہونے پر باقی سب بچے چھپ جاتے ہیں۔اب چور بچے کے ذمہ انھیں ڈھونڈ نکالنا ہوتا ہے،جو بچہ سب سے پہلے پکڑا جاتا ہے اگلی مرتبہ اسے چور بنایا جاتا ہے۔پہلی بار چور بننے کے لیے سب بچے تین تین کے گروپ میں مل کر ’’پگنے‘‘ کا ایک کھیل کھیلتے ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر وہ فوراً اپنے اپنے ہاتھ سیدھے یا الٹے جوڑ لیتے ہیں۔جن دو بچوں کے ہاتھ ایک انداز میں سیدھے یا الٹے جڑتے ہیں،وہ پھر سے کسی تیسرے فرد کو شامل کر کے یہی عمل دہراتے ہیں۔ہاتھ مختلف طریقے سے جوڑنے والا بچہ پگ کر کھیلنے والی ٹیم میں شامل ہو جاتا ہے۔اس طرح ہوتے ہوتے آخر میں ایک بچہ ایسا رہ جاتا ہے جو پگنے سے رہ جاتا ہے،اسی کو چور بننا پڑتا ہے۔


بچپن کے دن بھی کیا خوب دن ہوتے ہیں

اس کھیل میں اکثر بڑی دھاندلیاں یا ’’بے ایمانیاں ‘‘ہوتی ہیں۔اوّل تو چور بنانے کے لیے شروع ہی میں بڑی ڈنڈی ماری جاتی ہے۔ چالاک بچے آپس میں آنکھوں ہی آنکھوں میں گٹھ جوڑ کر کے ہاتھوں کو سیدھا اور الٹا رکھنے کا طے کر کے کسی ایک بچے کو چور بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔پھر کھیل کے دوران بھی جس کسی کو اگلا چور بنانے کا فیصلہ ہو جائے ، اس کے پکڑے جانے تک باقی بچوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

2 تبصرے

تلاش

موضوعات

  • اسلام (11)
  • ایڈوبی فلیش (5)
  • دلچسپ گیمز (7)
  • سیاسیات (2)
  • شعر و شاعری (10)
  • شوبی کی باتیں (27)
  • طنزومزاح (10)
  • متفرق (11)
  • مفید ویب سائٹس (2)

محفوظات

  • December 2009 (1)
  • November 2009 (1)
  • October 2009 (1)
  • September 2009 (2)
  • August 2009 (2)
  • July 2009 (1)
  • June 2009 (2)
  • May 2009 (2)
  • March 2009 (8)
  • February 2009 (5)
  • January 2009 (2)
  • December 2008 (5)
  • November 2008 (10)
  • October 2008 (1)
  • September 2008 (2)
  • August 2008 (1)
  • July 2008 (3)
  • June 2008 (1)
  • May 2008 (1)
  • April 2008 (3)
  • March 2008 (1)
  • January 2008 (6)
  • December 2007 (4)
  • November 2007 (2)
  • October 2007 (3)
  • September 2007 (14)

روابط

  • اردو سیارہ
  • اردو مجلس
  • اردو محفل
  • اردو ٹیک وینس
  • اُردو زبان میں فلیش سیکھئے!
  • جعفر کا حال دل
  • صریرِ خامۂ وارث
  • فرحان دانش
  • فرحت کیانی
  • قدیر احمد
  • ماوراء
  • محب علوی
  • مفت اردو بلاگ بنائیے!
  • کمپیوٹر پر اردو کی ترویج

شوبي ميگزين

علوی نستعلیق فونٹ ڈاؤن لوڈ کریں

صفحات

  • Help for Writing Urdu
  • میرے بارے میں
  • Urdu Fonts

میٹا

  • Login
  • تحریروں کا فیڈ
  • تبصروں کا فیڈ
March 2010
M T W T F S S
« Dec    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

حالیہ تحاریر

  • نیا سال 2010 مبارک ہو!
  • لا ثانیہ کے بکرے
  • ماما دے (رحیم شاہ)
  • عید مبارک!
  • کمزوروں کا تحفظ
  • تمام عالم ِ اسلام کو رمضان مبارک ہو!
  • اے پاکستانی! سوچ ذرا
  • اندازے
  • قرآن سے رشتہ توڑ دیا!
  • ناول ۔ عبداللہ

حالیہ تبصرے

  • فلیش میں اُردو متن لکھنے کا … میںشوبی
  • فلیش میں اُردو متن لکھنے کا … میںkmazizi
  • فلیش میں اُردو متن لکھنے کا … میںkmazizi
  • نیا سال 2010 مبارک ہو! میںطارق راحیل
  • نیا سال 2010 مبارک ہو! میںافتخار اجمل بھوپال
  • چار زبردست و یب سائٹس میںIbrahim Madni
  • نیا سال 2010 مبارک ہو! میںاسماء پيرس
  • نیا سال 2010 مبارک ہو! میںمحمداسد
  • لا ثانیہ کے بکرے میںشوبی
  • لا ثانیہ کے بکرے میںarifkarim
© 2007-2009 شوبی نامہ
Theme By Wired Studios, courtesy of Corvette Garage، Urdu localization by Qadeer Ahmed Rana
Valid XHTML | Valid CSS 3.0
By Word Press