
شعیب سعید شوبی کی کچھ یادیں کچھ باتیں
22
Oct
رحیم شاہ کا یہ گانا سمجھ میں نہ آنے کے باوجود بھی بہترین لگ رہا ہے۔ مجھے تو یہ رحیم شاہ کے اردو گانوں سے بھی لاکھ درجہ بہتر لگا ہے۔ ویڈیو بھی بہت اچھی ہے اس گانے کی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
اس گانے کے پشتو بول (لیرکس) اور اس کا ترجمہ جناب تلخابہ (ابوسعد) صاحب نے مجھے لکھ کر دے دیے ہیں۔(ابوسعد !۔۔۔۔آپ کا بے انتہا شکریہ!)۔۔۔۔۔۔۔نیلے رنگ میں گانے کا ترجمہ ہے۔ اب گانا سننے میں یقینا لطف آئے گا!
اسلام علیکم ! رحیم شاہ دہ کراچی نہ ، یوسف دہ لندن نا، جواد اور شاہ جہان دا جرمن نہ زکہ راغلی وہ چہ دہ ماما دہ زوی وادہ وہ۔
ماما دے
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی
ماما دے
اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
نظر ساتی پہ ہر سڑی بیدارہ وی ہر وختے
خوری و سرہ ولاڑ وی لکہ خستہ دہ چنار لختے
کہ ضد دی ورسرہ وکڑو نو بیا بہ ترنا تختے
اللہ دی ورتہ خیر کڑی دا زل نمبر دہ چا دے
ماما دے ۔۔۔۔
اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
پہ اسٹائل او انداز کے پہ مزہ مزہ روان وی
سلور واڑہ چی یو زی شی بیا گورہ شاہ زادگان وی
بیا داسے معلومیگی چی ہوم دوی زمونگ پیران وی
خو خیال کوہ پہ ٹولو کے انداز دہ دہ جدا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
یو خبرہ واورہ چی ہوم دے دہ کار سڑے دے
پہ عمر کے بہ زیات وی خو پہ زڑہ باندے زلمے دے
چہ گوتے ورتہ نہ کڑی بیا لمبہ اخلی لیتکے دے
زمونگ دہ ٹولو یار دے او دہ ہر سڑی آشنا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
زندہ باد خوریانو زندہ باد
اسلام علیکم ! رحیم شاہ کراچی سے ، یوسف لندن سے ، جواد اور شاہ جہان جرمنی سے اس لیے آئے تھے کیوں کہ ان کے ماموں کے بیٹے کی شادی تھی۔
ماموں ۔
جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے
اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں
جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے
اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں
ماموں ۔
بالکل جی
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ہر کسی پر نظر رکھتے ہیں ، ہر وقت چوکس رہتے ہیں
بھانجے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں چنار کی لکڑیوں کی طرح
اگر ان کے ساتھ آڑ گئے تو پھر بھاگنا پڑے گا
اللہ اس پر رحم کرے جس کی اس بار باری ہے
ماموں
بالکل جی
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
خاص اسٹائل اور انداز میں دھیرے دھیرے چلتے ہیں
جب چاروں ملتے ہیں تو شہزادے لگتے ہیں
پھر ایسے لگتا ہے جیسے یہی ہمارے پیر ہوں
لیکن انداز میں یہ سب سے جدا ہے
ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کام کا آدمی ہے
عمر میں زیادہ لیکن دل سے جوان ہے
چھیڑنا نہیں ورنہ آگ کی طرح بھڑک اٹھے گا
یہ ہم سب کے یار اورہر کسی کا دوست ہے
ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں
زندہ باد میرے بھانجوں زندہ باد
20
Sep
دعا ہے ، آپ دیکھیں زندگی میں بے شمار عیدیں
خوشی سے رقص کرتی ، مسکراتی پُر بہار عیدیں
نچھاور آپ پر ہوں ، ایسی ایسی صد ہزار عیدیں
زمانے بھر کی خوشیاں آپ پر کر دیں نثار عیدیں

************
13
Aug
جشن ِ آزادی کے پر مسرت موقع پر ایک فلیش ای کارڈ حاضر ہے۔ اُمید ہے پسند آئے گا۔
آخر میں روحانی ڈائجسٹ اگست 2009 کے شمارے میں شائع ہونے والی ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی کی ایک فکر انگیز نظم بھی ملاحظہ فرمائیں!
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
اب عزت شان سے جینا ہے
یا بس خیرات پہ پلنا ہے
بے وقعت ہےتقدیس ِ قلم
پامال ہوئے لفظوں کے بھرم
وہ افسر ہوں کہ سیاستدان
منصف ہوں یا اہل ِ قلم
شامل ہیں ضعف ِ ملت میں
یوں ہم نے ڈھائے خود پہ ستم
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
جمہوری راہ پکڑنا ہے
یا آمر کے ہاتھوں جکڑنا ہے
اپنے ووٹ کی طاقت سے
دیس کا حال بدلنا ہے
طاقت کو کرنا ہے سلام
یا خود طاقتور بننا ہے
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
ٹیڑھے ہیں ترازو کے پلڑے
مجرم نے منصف ہیں پکڑے
عدل بکاؤ مال بنا
قانون کے ملتے ہیں ٹکڑے
انصاف کا بھاؤ لگا جب سے
بن بیٹھے ظالم بے فکرے
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
حق تلفی بڑھ جانے سے
نفرت کی آگ بھڑکتی ہے
انصاف جہاں پر عام نہ ہو
واں قوم دُکھوں میں جکڑتی ہے
ہاں یاد رہے فرمانِ علی ؓ
بِن عدل تو قوم بکھرتی ہے
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
مُلّا کی نصیحت بے حکمت
سجدے ہیں حضوری سے خالی
صوفی کی باتیں بے روحی
اسرارِ باطن سے خالی
اپنے ہی قول کا پاس نہیں
حاکم کی کیسی بے حالی
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
غیروں کو سمجھ مت اپنا امام
دنیا میں بنا خود اپنا مقام
مشکل ہے مگر اتنا بھی نہیں
کوشش کر ، لے اپنا انعام
تحقیق و تجسّس ، علم و عمل
ہاں محنت سے کر اپنا کام
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
تو وارث شہہ سواروں کا
اللہ نبیﷺ کے پیاروں کا
ؒرحمٰن ؒ ، لطیف ؒو بلّھے شاہ
دیں درس یہ من کے اُجالوں کا
ہمت کر ، تو محتاج نہ بن
دنیا کے جھوٹے سہاروں کا
اے پاکستانی! سوچ ذرا
تجھے کن راہوں پہ چلنا ہے
(ؔڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)
2
Jun
عبداللہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف و منفرد ڈرامہ رائٹر اور ناول نگار ہاشم ندیم کامشہور ناول ہے۔ یہ دراصل عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کے انوکھے و لافانی سفر پر مشتمل ایک داستان ہے۔ جس کا سارا خاکہ ، ہماری دنیا کے بالکل متوازی چلتی ایک دوسری دنیا کے اسرارورموز کے گرد گھومتا ہے۔

مجھے بھی جنگ کےسنڈے میگزین میں اس شاہکار ناول کو پڑھنے کا موقع ملا۔ بعض اقساط پڑھنے سے رہ گئیں تھیں مگر انٹرنیٹ زندہ باد۔۔۔۔معمولی سی تلاش کے بعد عبداللہ ناول کی مکمل پی ڈی ایف مل گئی۔ کافی لوگوں سے اس ناول کی تعریف سن چکا ہوں اور حقیقت میں یہ ناول تعریف کے قابل ہے۔اگر آپ کو یہ ناول پڑھنے کا موقع نہ ملا ہو یا کچھ اقساط سنڈے میگزین میں پڑھنے سے رہ گئیں ہوں تو فی الفورمندرجہ ذیل روابط سے اس ناول کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اس کا مطالعہ شروع کیجئے!
9
May
ایک مرتبہ کسی جنگل کے قریب کوئی انگریز افسر خیمہ زن تھا۔ اس نے دیکھا کہ بہت سے سپیرے جنگل کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ معلوم کروایا تو پتہ چلا کہ جنگل میں کلی ناس نامی سانپ رہتا ہے، جو نہایت خطرناک سانپ ہے۔اس کی پھنکار سے درخت جل کر کوئلہ ہو جاتے ہیں۔ بڑے بڑے سپیرے بلائے گئے ہیں لیکن یہ سانپ کے بل کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر پارہے ہیں۔
اس انگریز آفیسر نے کہا۔۔۔۔یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔تم لوگ ایسا کرو کہ اس کے بل کے ارد گرد لکڑیوں کا ایک ڈھیر جمع کر دو۔۔۔۔۔اس کےبعد بین بجاؤ تاکہ وہ بل سے باہر نکلے۔۔۔۔
سپیروں نے انگریز آفیسر کی ہدایت پر عمل کیا۔ سانپ باہر نکلا اور پھنکار ماری تو اس کے گرد رکھی لکڑیوں کے ڈھیر میں آگ لگ گئی، سانپ کے باہر نکلنے کا راستہ بند تھا چنانچہ وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر پھنکار مارنے لگا۔۔۔۔۔اس حرکت سے اس کے گرد تمام لکڑیوں میں آگ لگ گئی اور وہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل مرا۔۔۔۔
انسان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے، وہ اپنے اردگرد مال و دولت کے ڈھیر لگا کر اور اس پر حرص و طمع و ہوس کی آگ پھونکتا رہتا ہے، پھر ایک دن اپنی ہی لگائی آگ میں جل کر فنا ہو جاتا ہے۔۔۔۔!
تذکرہ غوثیہ سے اقتباس
23
Mar
یوم ِ پاکستان کے موقع پر ای کارڈ اور ایک نظم تمام پاکستانیوں کی نذر!

مجھ کو اسے دیکھنا بہت ہے
پرچم مرا خوش نما بہت ہے
سورج سے بڑی ہے اس کی چھاؤں
یہ ایک شجر گھنا بہت ہے
بہتا ہے جو زندگی کی خاطر
وہ خون پکارتا بہت ہے
لب رکھ لئے میں نے اس پہ جھک کر
اس خاک کو چومنا بہت ہے
سمجھے نہ کوئی کہ حبس میں ہیں
اس گھر میں ابھی ہوا بہت ہے
توڑے نہ کوئی مرا گھروندا
بس ایک یہی دعا بہت ہے
سب عیب مرے ہنر کئے ہیں
اس دھرتی میں مامتا بہت ہے
میں گود میں تیری چھپ گئی ہوں
آغوش میں تیری کشا بہت ہے
لے لے مجھے اپنی اوڑھنی میں
اک ماں کی یہی ادا بہت ہے
********************************
(شاہدہ حسن)
20
Mar
کچھ دنوں قبل میں نے اپنی ایک پوسٹ“مطالعہ کے لئے بہترین وقت” میں اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مجھے رات دیر گئے دیر تک پڑھنے کی عادت ہوگئی ہے۔ اس مسئلے کے سلسلے میں افتخاراجمل بھوپال صاحب نے اپنا تجربہ اور حل اپنے بلاگ پر لکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ میری انتہائی خوش نصیبی ہے کہ انھوں نے وعدے کے مطابق اپنے بلاگ پر اس سلسلے میں انتہائی مفید پوسٹ لکھی۔ جسے میں افتخار اجمل صاحب کے شکریے کے ساتھ یہاں بھی پوسٹ کرنے کی جسارت کرنا چاہونگا کیونکہ اس پوسٹ کی افادیت نہ صرف میرے لئے بلکہ تمام طالب علموں کے لئے ظاہر ہے۔ آخر میں افتخار صاحب سے کہنا چاہوں گا کہ اس مفید پوسٹ پر میں آپ کا بے انتہا شکرگزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔
افتخار اجمل بھوپال نے اس سلسلے میں اپنے موقر بلاگ میں جو کچھ ارشاد فرمایا وہ یہ ہے:
شعیب سعید شوبی صاحب نے لکھا تھا “امریکہ کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ علی الصباح بیدار ہو کر مطالعہ کرنے والے کالج یا یونیورسٹی کے طلبا رات گئے پڑھنے والے طلبا کی نسبت امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں”
امریکی ماہرین نفسیات نے درست کہا ہے لیکن شاید ایک صدی یا زیادہ تاخیر سے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے کئی اساتذہ نے یہ ہدائت ہمیں سکول کے زمانہ میں کی تھی کہ رات کو عشاء کے بعد سو جایا کریں اور صبح سویرے اُٹھ کر تھوڑی سی سیر کریں اور پھر نہا کر پڑھا کریں ۔ دوپہر کے بعد آدھ گھنٹہ آرام کریں پھر بیٹھ کر پڑھیں ۔ میرے اساتذہ کے مطابق رات آرام کرنے کے بعد صبح آدمی تازہ دم ہوتا ہے ۔ دوسرے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دن رات کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ صبح سویرے تازہ ہوا ہوتی ہے جو دماغ کو تازگی بخشتی ہے ۔ اسلئے جو سبق یاد کرنے میں رات کو تین گھنٹے لگتے ہیں وہ صبح ایک گھنٹہ میں یاد ہو جاتا ہے ۔ میں نے مَیٹرک 1953ء میں پاس کیا تھا
ہماری پہلی یا دوسری جماعت کی کتاب میں ایک نظم ہوا کرتی تھی جس میں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے سادہ اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھا تھا “دن بنایا محنت کرنے کو اور رات بنائی آرام کرنے کو ۔
میرے والد صاحب[اللہ بخشے] کہا کرتے تھے
Early to bed, early to rise
healthy wealthy and wiseسردیاں ہوں یا گرمیاں میرے والد صاحب سورج طلوع ہونے سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے اُٹھ جاتے اور نہا کر اپنا کاروباری لکھنے پڑھنے کا کام کر کے پھر ناشتہ کرتے ۔ میں اور میرے چند ہم جماعت اندھیرے منہ اُٹھ کر اکٹھے دو کلو میٹر دور شہر سے باہر کی طرف جاتے وہاں سے پھلائی کی ٹہنی کاٹ کر واپسی پر داتن کرتے آتے ۔ گھروں میں پہنچ کر نہا کر پڑھنے بیٹھ جاتے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی مرضی ہے لیکن میں ایف ایس سی پاس کرنے تک کبھی عشاء کی نماز کے بعد جاگتا نہیں رہا ۔ اس کے باوجود اللہ کی مہربانی سے میرا شمار اچھے طلباء میں رہا ۔ آٹھویں جماعت کے دوران صرف ایک دن صبح نہیں اُٹھ سکا تھا تو میری والدہ [اللہ جنت نصیب کرے] نے کہا “مسلمان کا بچہ سورج نکلنے کے بعد نہیں اُٹھتا”۔ یہ جُملہ میں کبھی نہیں بھُلا سکتا
رات کو پڑھنے والے صبح سویرے پڑھنے کی افادیت کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ اُنہیں مختلف وجوہ نے رات دیر تک جاگنے کا عادی بنا دیا ہوتا ہے ۔ اس میں موجودہ جوان نسل کی نسبت اُن کے والدین کا زیادہ قصور ہے جو فطری نظام کے خلاف رات گئے تک فلمیں یا ڈرامے دیکھنے اور محفلیں سجانے کے عادی ہو گئے ہیں ۔ گوروں کی نقالی جو ہماری قوم نے لباس اور زبان میں کرنے کی پوری کوشش کی رات کو دیر تک جاگنا بھی اسی طرح کی کوشش تھی
صرف چار دہائیاں پیچھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں تمام سکول اور دکانیں گرمیوں میں صبح 7 بجے اور سردیوں میں صبح 8 بجے کھُلتے تھے ۔ دکانیں شام 7 بجے بند ہونا شروع ہو جاتیں اور سب دکانیں 8 بجے تک بند ہو جاتیں ۔ رات کا کھانا سب لوگ سورج چھُپنے کے بعد جلد کھا لیتے ۔ گرمیوں میں صبح ناشتہ دوپہر اور رات کو کھانا کھاتے جبکہ سردیوں میں لوگ صبح اور رات کو کھانا اوربعد دوپر کچھ ہلکا پھُلکا کھا لیتے جسے ناشتہ یا چائے کا نام دیا جاتا ۔ اب کیا ہے ۔ کوّا گیا تھا مور بننے ۔ نہ مور بنا اور نہ کوّا ہی رہا
جن لوگوں کو رات کو جاگنے کی عادت پڑ چکی ہے اگر وہ مسلمان ہیں تو انہیں چاہیئے کہ پہلے صبح سویرے اُٹھ کر نہانے اور فجر کی نماز اوّل وقت میں پڑھنے کی عادت ڈالیں ۔ نماز کے بعد صبح ناشتہ کرنے تک جو سب سے مشکل سبق سمجھیں اسے پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کریں ۔ جب عادت ہو جائے پھر مزید جلدی اُٹھنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا ۔ صبح سویرے نہانے سے آدمی سارا دن تازہ دم رہتا ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے ۔
افتخار اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پر یہ تحریر اور ان پر تبصراجات کے لئے ان کا بلاگ ملاحظہ فرمائیں!
16
Mar
آخر کار شہزاد رائے نے اپنے نئے البم ’’قسمت اپنے ہاتھ میں” کے ٹائٹل سونگ “قسمت اپنے ہاتھ میں” کی ویڈیو بھی بنوا ہی لی۔ اس گانے کے بول کچھ عجیب و غریب سے ہیں مگر ویڈیو اس قدر شاندار ہے کہ کم از کم مجھے تو بہت پسند آئی ہے۔ اس سے قبل شہزاد رائے کے اسی البم کا گانا “لگا رہ” کی ویڈیو بھی کافی مقبول ہوئی تھی۔ شہزاد رائے کے سابقہ تمام البمز میں سے یہ سب سے بہترین البم ہے۔ اگر کسی کو یہ گانا ایم پی تھری فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کرنا ہے تو یہاں سے کر سکتا ہے۔
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| « Dec | ||||||
| 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 |
| 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 |
| 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 |
| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 |
| 29 | 30 | 31 | ||||