کیا ڈاکٹر لوتھر کنگ نے کبھی سوچا ہو گا کہ ان کے خواب کو (کہ امریکہ میں گوروں اور کالوں میں تفریق ختم ہوجائے) کو اتنی جلدی تعبیر بھی مل جائے گی کہ امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں واقع سفید گھر میں ایک کالا شخص سکونت اختیار کرے گا؟
اب جب کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور باراک حسین اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں تو مجھے بار بار جنگ اخبار میں چھپنے والی وہ آزاد نظم یاد آرہی ہے جو دو سال قبل جنگ اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ جو مجھے اس قدر پسند آئی تھی کہ میں نے اُسے اپنی ڈائری میں نقل کر لیا تھا۔ حسن اتفاق سے وہ ڈائری ابھی تک محفوظ ہے۔ میں چاہوں گا کہ اس نظم کو آپ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ آج اس نظم کو پڑھ کر عبرت پکڑنے کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے نہ تھی۔
اس نظم کا عنوان تو آپ اس پوسٹ کے عنوان میں پڑھ ہی چکے ہیں ۔ اس نظم کے بارے میں جنگ اخبار میں لکھا تھا کہ ’’یہ نظم ایک افریقی بچے کی تخلیق ہے، جسے ۲۰۰۵ عیسوی کی بہترین نظم کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔” مگر انٹرنیٹ پر سرچنگ کے دوران اس نظم کے کئی خالق نظر آئے۔ بہرحال اگر آپ میں سے کوئی اس نظم کے اصل خالق کا نام جانتا ہے تو ضرور بتائے۔ وہ نظم اور اس کا ترجمہ جو جنگ اخبار میں شائع ہوا تھا، پیش خدمت ہے:

Colored
When I born, I Black…
When I grow up, I Black…
When I go in Sun, I Black…
When I scared, I Black..
When I sick, I Black..
And when I die,I still black…
And you White fellow..
When you born, you pink..
When you grow up, you White…
When you go in Sun, you Red..
When you cold, you blue…
When you scared, you yellow..
When you sick, you Green…
And when you die, you Gray… And you call me colored???
کلرڈ
جب میں پیدا ہوا تو، کالا۔۔۔
جب میں پروان چڑھا تو، کالا۔۔۔
جب سورج میں جھلسا تو، کالا۔۔۔
جب ڈرا سہما تو، کالا۔۔۔
جب بیمار پڑا تو، کالا۔۔۔
اور جب مرا، تب بھی کالا۔۔۔
اور تم اے سفید فام۔۔۔
جب پیدا ہوئے تو گلابی۔۔۔
پروان چڑھے تو سفید۔۔۔
سورج میں نکلے تو لال۔۔۔
ٹھنڈے پڑے تو نیلے۔۔۔
ڈرے سہمے تو پیلے۔۔۔
بیمار ہوئے تو ہرے۔۔۔
اور مرے تو سرمئی۔۔۔پھر بھی تم مجھے کہتے ہو’’کلرڈ؟‘‘
*******************


