اس موضوع سے متعلق مزید تحریریں۔۔۔

ابھی تک 9 قارئین نے تبصرہ کیا ہے

Subscribe to this post comment rss or trackback url
mygif
تلءابھ بروز October 22nd, 2009 بوقت 11:50 am

آپ درست کہہ رہے ہیں ۔ یہ اچھا گانا ہے اس کے لیرکس میں آپ اور دیگر بلاگرز دوستوں کے لیے اردو میں یہاں پیش کردوں گا۔ اتوار تک زرا فرصت والا کام ہے نا۔

mygif
شوبی بروز October 22nd, 2009 بوقت 10:45 pm

اس سے زبردست بات کیا ہو گی تل ءابھ (صاحب)۔ آپ کو جب فرصت ملے یہ کام ضرور کیجئے گا۔ اگر ترجمہ یہاں پوسٹ ہو جائے تو کیا ہی بات ہو گی!

mygif
تلخابہ بروز October 22nd, 2009 بوقت 11:14 pm

شوبی صاحب میرا نک تلخابہ ہے تل ءابھ نہیں ۔ یہ غلطی سے ہوگیا تھا۔ ویسے آپ ابوسعد بھی مخاطب کرسکتے ہیں۔ اور ہاں میرے بلاگ پر آنے اور پسندیدگی کا بھی شکریہ۔

mygif
فرحان دانش بروز October 23rd, 2009 بوقت 3:28 am

یہ گانا سمجھ میں نہہیں آتا۔ :( میوزک اورویڈیو بھی بہت اچھی ہے ۔

مجھے پشتو کے دوالفاط معلوم ہیں۔ “زما وعدہ دا” :lol:

mygif
ساجداقبال بروز October 23rd, 2009 بوقت 8:04 pm

اچھی ہے پر نقل ہے حال ہی میں مشہور افغانی گانے کی۔ میوزک بھی کافی ملتا جلتا ہے۔

mygif
تلخابہ بروز October 23rd, 2009 بوقت 9:26 pm

اسلام علیکم ! رحیم شاہ دہ کراچی نہ ، یوسف دہ لندن نا، جواد اور شاہ جہان دا جرمن نہ زکہ راغلی وہ چہ دہ ماما دہ زوی وادہ وہ۔

اسلام علیکم ! رحیم شاہ کراچی سے ، یوسف لندن سے ، جواد اور شاہ جہان جرمنی سے اس لیے آئے تھے کیوں کہ ان کے ماموں کے بیٹے کی شادی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما دے
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی

ماما دے

اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما

ماموں ۔

جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے
اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں
جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے
اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں
ماموں ۔
بالکل جی
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظر ساتی پہ ہر سڑی بیدارہ وی ہر وختے
خوری و سرہ ولاڑ وی لکہ خستہ دہ چنار لختے
کہ ضد دی ورسرہ وکڑو نو بیا بہ ترنا تختے
اللہ دی ورتہ خیر کڑی دا زل نمبر دہ چا دے
ماما دے ۔۔۔۔
اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما

ہر کسی پر نظر رکھتے ہیں ، ہر وقت چوکس رہتے ہیں
بھانجے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں چنار کی لکڑیوں کی طرح
اگر ان کے ساتھ آڑ گئے تو پھر بھاگنا پڑے گا
اللہ اس پر رحم کرے جس کی اس بار باری ہے

ماموں
بالکل جی
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہ اسٹائل او انداز کے پہ مزہ مزہ روان وی
سلور واڑہ چی یو زی شی بیا گورہ شاہ زادگان وی
بیا داسے معلومیگی چی ہوم دوی زمونگ پیران وی
خو خیال کوہ پہ ٹولو کے انداز دہ دہ جدا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما

خاص اسٹائل اور انداز میں دھیرے دھیرے چلتے ہیں
جب چاروں ملتے ہیں تو شہزادے لگتے ہیں
پھر ایسے لگتا ہے جیسے یہی ہمارے پیر ہوں
لیکن انداز میں یہ سب سے جدا ہے

ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یو خبرہ واورہ چی ہوم دے دہ کار سڑے دے
پہ عمر کے بہ زیات وی خو پہ زڑہ باندے زلمے دے
چہ گوتے ورتہ نہ کڑی بیا لمبہ اخلی لیتکے دے
زمونگ دہ ٹولو یار دے او دہ ہر سڑی آشنا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما

زندہ باد خوریانو زندہ باد

یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کام کا آدمی ہے
عمر میں زیادہ لیکن دل سے جوان ہے
چھیڑنا نہیں ورنہ آگ کی طرح بھڑک اٹھے گا
یہ ہم سب کے یار اورہر کسی کا دوست ہے

ماموں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں
ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموٕں

زندہ باد میرے بھانجوں زندہ باد

mygif
تلخابہ بروز October 23rd, 2009 بوقت 9:28 pm

میرے پاس پشتو فونٹس نہیں ہیں اس لیے پشتو اردو فونٹس میں لکھی ہے۔ اگر کسی کے پاس ہیں تو ضرور اس پشتو کو ری رائٹ کریں۔
کراچی میں تو کوئی پشتو کمپوزر نہیں ہے ، پشاور کا کوئی دوست اس کو پشتو فونٹس میں لکھ سکے گا

شوبی صاحب اچھا ہوگا اگر آپ پشتو اور اردو کو مختلف کلر دے دیں

mygif
شوبی بروز October 24th, 2009 بوقت 12:14 am

ساجد اقبال اور فرحان دانش آپ دونوں نے اپنی آراء شامل کیں، اس کے لئے بے حد شکریہ!

mygif
شوبی بروز October 24th, 2009 بوقت 12:18 am

ابو سعد آپ کے مشورے پر میں نے گانے کے بول اور ترجمہ کو اپنی پوسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ ان کو مختلف رنگ بھی دے دیے ہیں۔ جہاں تک پشتو فونٹس کا تعلق ہے تو اس کے لئے عرض ہے کہ ایسا بہت کم امکان ہے کہ کسی کے کمپیوٹر پر پشتو فونٹ انسٹال ہو۔ چنانچہ اگر ہم نے پشتو یونی کوڈ فونٹ میں ٹیکسٹ لکھ بھی دیا تو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ٹیکسٹ پھر ڈیفالٹ فونٹ میں ہی یوزر کو دکھائی دے گا۔ ہاں تصویری صورت میں پشتو بول شامل کیے جا سکتے ہیں۔

براہِ کرم اس تحریر پر اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولئے۔ شکریہ!
درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

 آپ کا نام (*ضروری ہے)

 آپ کا ای میل (*خفیہ رہے گا)

 آپ کی ویب سائیٹ (*اگر ہے تو)

توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔