یہ دور ہے افراتفری کا
اور وقت ہے نفسانفسی کا
کچھ ہوش نہیں انسانوں کو
خطرہ ہے سب کی جانوں کو
دھارے سب اُلٹے بہتے ہیں
انسان پریشان رہتے ہیں
اِک خوف سا سب پہ چھایا ہے
چہرہ چہرہ مُرجھایا ہے
جانے کب وہ وقت آئے گا؟
ابن ِ آدم مسکرائے گا!
یہ سوچ لگی سی رہتی ہے
اور دل کو اذیت دیتی ہے
کیوں دنیا میں اندھیرا ہے؟
کیوں ظلم نے سب کو گھیرا ہے؟
آواز یہ دل سے آتی ہے
اور راز مجھے بتلاتی ہے
دین ہم نے اپنا چھوڑ دیا
قرآن سے رشتہ توڑ دیا!



اس موضوع سے متعلق مزید تحریریں۔۔۔
ابھی تک 9 قارئین نے تبصرہ کیا ہے
بہت خوب جناب۔ آپ نے مسئلے کو جڑ سے پکڑا ہے۔
بہت خُوب اور بالکل درست بھی
Bhoot Khob
شرم و حیا کو اپنی شاید سلا دیا ہے
آبا کا سر شرم سے نیچے جھکا دیا ہے
بڑھنے لگے ہیں ہم پر تاریکیوں کے سائے
جب سے قرآں کو ہم نے یکسر بھلا دیا ہے
غافل تو اب قرآن کو اچھی طرح پڑھا کر!
قرآن جو کہہ رہا ہے اس پر عمل کیا کر!
Bohat hi acha share kia hmm bilkul yehi wajah hei ke Muslims har jaga mushkil mein hein… Allah taufeeq de Quran ko kabhi na chordne ki.. ameen
bht achy janab mai ne ye nazam apne blog pr b likh li hai aap k naaam k sath
وقاص میر: بہت شکریہ جناب!
محمد طارق راحیل: بڑی نوازش !
السلام علیکم
درست کہا ، یہی حقیقت ہے اور تلخ حقیقت !
شگفتہ: وعلیکم السلام!
براہِ کرم اس تحریر پر اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولئے۔ شکریہ!
توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔