تمام عالم ِ اسلام کو جشن ِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ہماری ہدایت و رہنمائی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا کہ جن کی بدولت آج ہم مسلمان کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا ہو!۔۔۔آمین!

اس پر مسرت اور با برکت موقع پر “خوشبو” سے پروین شاکر کی ایک خوبصورت نظم ملاحظہ فرمائیں!
وحی
عجیب موسم تھا وہ بھی ، جب کہ
عبادتیں کور چشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیروبرکت کی نعمتیں لوگ مانگتے تھے!
مگر وہ اِک شخص
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب اُلجھن میں مبتلا تھا
یہ وہ نہیں ہیں، وہ کون ہوگا کا کرب ِ بے نام چکھ رہا تھا!
سو اپنےان نارسا دُکھوں کی صلیب اُٹھائے
غموں کی نایافت شہریت کو تلاش کرتے
وہ شہرِ آزر سے دُور
اپنے تمام لمحے
حرا کے غاروں کے خواب آسا سکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا
اور ایک اَن دیکھی رُوح ِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا
وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضا پہ سناٹا چھا گیا
اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی
ستارہ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریز پا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!
یکایک اِک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر
فضا میں گونجی
“پڑھو!“
“میں پڑھ نہیں سکوں گا!“
“پڑھو!“
“میں پڑھ نہیں سکوں گا!“
“پڑھو!“
“(مگر) میں کیا پڑھوں؟“
پڑھو۔۔۔۔تم اپنے (عظیم) پروردگار کا نام لے کے
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو (کہ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے
(اور) جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اُسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں
کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔“
فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وہ سارے لفظ ، جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچہ بے خیال میں
آگہی کے سُورج اُتر رہے تھے
اس ایک پل میں
وہ میرا اُمی
مدینہ العلم بن چکا تھا!
*******


اس موضوع سے متعلق مزید تحریریں۔۔۔
ابھی تک 5 قارئین نے تبصرہ کیا ہے
Aap ko be mubarak ho, or Shukria
سبحان اللہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت اچھی نظم ہے۔
بہت اچھی نظم ہے۔
آج کے دن کی مناسبت سے ہم سب کو ایک عہد بھی کرنا چاہئے کہ جتنا بھی ہمارے بس میں ہوسکے علم کو پھیلانے کی کوشش کریں کیونکہ علم سے ہی انسان خود کو پہچانتا ہے اور جو خود کو پہچان جائے وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ جیسا باری تعالی فرماتے ہیں، “ کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہو سکتے ہیں“
السلام علیکم
آپ کو ہم سب کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یومِ ولادت بہت مبارک ہو ! آپ کے بلاگ پر یہ پوسٹ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ شعیب آپ نے یہ کارڈ خود ڈیزائن کیا ہے کیا ؟
یاسر عمران: آپ کا بھی شکریہ بلاگ پر تشریف لانے کا!
دوست: بہت شکریہ جناب!
جعفر: بہت شکریہ۔۔۔ جناب!
شگفتہ: وعلیکم السلام۔ پوسٹ کی پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ!۔۔۔۔
جی ہاں!۔۔۔۔۔۔۔یہ کارڈ میں نے خود ڈیزائن کیا ہے۔
براہِ کرم اس تحریر پر اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولئے۔ شکریہ!
توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔