باندھی ہوئی ہے کس کے ٹانگے سے چارپائی
ہے ساتھ ساتھ اپنے
اجداد کی نشانی، اِک مضمحل رضائی
اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی

پہنے ہوئے ہیں تن پر پیراہنِ ہوائی
کالر نہیں ہے پھر بھی
گردن میں اِک پرانی، لہرا رہی ہے ٹائی
اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی
مکتب میں مدتوں سے موقوف ہے پڑھائی
کیا گل کھلا رہی ہے
واعظ کی خوش بیانی، مسجد میں ہے لڑائی
اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی
رختِ سفر ہے اپنا، اپنی برہنہ پائی
آنکھوں میں صرف سپنے
ہاتھوں میں ناتوانی اور کاسئہ گدائی
اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی
(انور مسعود)


اس موضوع سے متعلق مزید تحریریں۔۔۔
ابھی تک 2 قارئین نے تبصرہ کیا ہے
کیا جانئے یہ شخص ہنسا دے کہ رلا دے

کیا خوب نظم ہے ۔۔ انور مسعود ان چند شاعروں میں شامل ہیں جو سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں اصناف کی شاعری پر پوری طرح عبور رکھتے ہیں اور قبولیت عام کی سند بھی۔۔۔
ان کا قطعہ
آج ایک الم ناک خبر نظر سے گزری
ایک انبوہ کا یوں بے کس و تنہا ہونا
رحلت ایک مولوی صاحب کی الہی توبہ!
ایک دم چار خواتین کا بیوہ ہونا
جعفر: شکریہ جناب!۔۔۔۔۔یہ قطعہ بھی بہت اچھا ہے۔
براہِ کرم اس تحریر پر اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولئے۔ شکریہ!
توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔