ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الاضحی کے موقع پر کراچی میں سپر ہائی وے میں مویشی منڈی قائم کی گئی ہے۔ اس منڈی کا تعارف لکھنے کی ضرورت تو نہیں، کیونکہ یہ تعارف اردو نیوز ڈاٹ نیٹ پر موجود ہے۔ وہیں سے نقل کیے دیتا ہوں:
فوج کی نگرانی میں سپرہائی وے کے دونوں اطراف 800 ایکڑ اراضی پر روایتی بکرامنڈی قائم کردی گئی ہے جس میں سے 600 ایکڑ اراضی گائے‘ بیل اور اونٹ کیلئے اور 200 ایکڑ اراضی بکرے کیلئے مختص کی ہے۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ منڈی میں پیر 10 نومبر تک 20 ہزار گائے و بیل اور صرف 2 بکرے آئے تاہم مویشیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ منڈی میں فروخت کنندہ سے گائے کے 550 روپے فی کس وصول کئے جارہے ہیں جبکہ گذشتہ سال یہ فیس 500 روپے تھی۔ بکرے کی فیس میں بھی اضافہ کرکے 280 روپے فی کس کردی گئی ہے۔ گذشتہ سال یہ فیس 200 روپے تھی۔ منڈی کو روشن رکھنے کیلئے 1200 سے زائد بڑی سرچ لائٹس لگائی گئی ہیں جبکہ پارکنگ ایریا علیحدہ بنایا گیا ہے جہاں موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 10 روپے‘ کار کی پارکنگ فیس 25 روپے اور کمرشل وہیکل کی فیس 35 روپے مقرر کی گئی ہے۔ منڈی میں پولیس کے علاوہ رینجرز بھی تعینات ہے تاہم منڈی کے تمام امور کی ذمہ داری ’او آئی سی‘ ایک کرنل کی ہے۔ منڈی میں انتظامیہ کی جانب سے بیوپاریوں کیلئے کئی میڈیکل کیمپ اور مویشیوں کے علاج معالجے کیلئے وٹرنری اسپتال قائم کئے گئے ہیں جبکہ رقم کی منتقلی اور فراہمی کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان نے 2 بوتھ قائم کئے ہیں۔ منڈی میں وی آئی پی بلاک کی قیمت میں بھی اضافہ کرکے 45 ہزار اور 55 ہزار کردیئے ہیں جبکہ اس سے قبل وی آئی پی بلاک کی فیس 35 ہزار روپے تھی۔ یہاں پر قابل ذکر اور قابل نظر مویشی نمائش کیلئے رکھے جاتے ہیں اور منڈی کے اختتام سے قبل میلا مویشیاں منعقد کرکے منڈی میں موجود سب سے خوبصورت مویشی کے مالک کو انعام دیا جاتا ہے۔
تصاویر
کل ہی اس منڈی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کی کچھ منتخب تصاویر اور ویڈیوز یہاں پیش کر رہا ہوں۔ آئیے کراچی کی مویشی منڈی کی سیر کرتے ہیں۔











ویڈیوز
اور اب دو ویڈیوز بھی۔۔۔۔۔۔۔
پہلی ویڈیو


اس موضوع سے متعلق مزید تحریریں۔۔۔
ابھی تک 9 قارئین نے تبصرہ کیا ہے
یہ بھی بتایے کہ جو خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جانور خریدنے جانے والے حضرات کے ساتھ نا روا بلکہ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے ، یہ واقعی خبریں ہیں کہ افواہیں؟
بالکل ٹھیک سنا ہے آپ نے ڈفر۔ بعض لوگوں کو سہراب گوٹھ میں روک کر بلیڈ سے زخم لگائے گئے اور ان زخموں میں ایلفی ڈالی گئی۔ سریوں سے لہولہان کیا گیا۔ موبائل اور دیگر قیمتی اشیا؍ زبردستی چھینی گئیں۔
تاہم اب تو رینجرز والوں نے الآصف اسکوئر میں پینتیس کے قریب افغانیوں کو اسلحے سمیت گرفتار کیا ہے اور سپر ہائی وے میں سہراب گوٹھ میں عموما اور مویشی منڈی میں بالخصوص رینجرز اور پولیس تعینات کی گئی ہے۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ ایسے حالات پیش نہیں آرہے ہیں۔
achi tasaveer hain mazeed shear kijye na
طارق راحیل بہت شکریہ کہ آپ ناچیز کے بلاگ پر تشریف لائے۔ مزید تصویریں تو نہیں ہیں۔ آپ ویڈیوز کیوں نہیں دیکھتے؟ اس میں مزید جانوروں کا ’’دیدار‘‘ کیا جا سکتا ہے جو چند دنوں بعد ہی مرحوم ہونے والے ہیں۔
choose one qurbani ………..
عمران احمد آپ کی بات کچھ پلّے نہیں پڑی۔ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟
اچھی تصاویر ہیں ۔ جانور ٹیکس زیادہ تو ہونا ہی تھا ۔ انتظام جو فوج کا ہے ۔ اپنا اپنا معیار ہوتا ہے
بہت اچھی پوسٹ ہے اور تصاویر بھی بہت اچھی ہیں۔ ایک تصویر ذرا منڈی کی کسی اونچے مقام سے لیتے تاکہ دیکھنے والوں کو اندازہ ہوتا کہ یہ کتنا بڑا میلہ ہوتا ہے۔
پوسٹ اور تصاویر پسند کرنے کا بہت شکریا نعمان!۔۔۔۔جی بالکل آپ نے درست لکھا ہے۔ واقعی مجھے ایک تصویر اونچے مقام سے بھی لینی چاہیئے تھی۔ چلیے آئندہ سال اگر زندگی نے وفا کی تو ایسی ایک تصویر بھی ضرور کھینچنے کی کوشش رہے گی۔ میرے بلاگ پر آپ کی آمد کا بہت بہت شکریہ!
براہِ کرم اس تحریر پر اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولئے۔ شکریہ!
توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔